اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شمالی کوریا کے نائب وزیر خارجہ کم سون گیونگ نے پیر کی شب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں عالمی ادارے کی کارکردگی اور جزیرہ نما کوریا میں بڑھتی کشیدگی سمیت مختلف امور پر اظہار خیال کیا۔
انہوں نے موجودہ غیر یقینی اور شدید اتھل پتھل کی صورتحال کو ایک مضبوط اقوام متحدہ کی ضرورت قرار دیا، جو انسانیت کو درپیش چیلنجز اور بحرانوں کو تمام انسانوں کے مشترکہ مفادات کے مطابق حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
گیونگ نے سب سے اہم مسئلہ اقوام متحدہ کو ایسا ادارہ بنانا قرار دیا جو تمام ممالک کا ہو اور جو ان کے بقول اقوام متحدہ کے منشور میں درج اصولوں اور مقاصد کی پابندی کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان عناصر کے یکطرفہ اقدامات کے مقابلے میں مکمل غیر جانب داری اور غیر متعصبانہ رویہ یقینی بنایا جائے جو اپنے تسلط پسندانہ مقاصد کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کو ایک آلہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کو مخصوص طاقتوں کے مذموم سیاسی مقاصد کا آلہ نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق اس عالمی ادارے کو آزاد ریاستوں کے درمیان برابری اور تعاون کو فروغ دے کر اپنی حیثیت اور مستقبل کو مزید مستحکم کرنا چاہیے۔
شمالی کوریا کے نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات کی جائیں؛ تاہم یہ اصلاحات مخصوص ممالک کے گرد نہیں گھومنی چاہئیں بلکہ حقیقی معنوں میں اقوام متحدہ کو جمہوری بنانے کے لیے ہونی چاہئیں، تاکہ یہ ادارہ تمام رکن ممالک کے خیالات اور مفادات کی متوازن اور مساوی نمائندگی کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ اب وہ دور گزر چکا ہے جب اقوام متحدہ کا ایک رکن ملک تنہا اپنی مرضی دنیا کے دیگر حصوں پر مسلط اور عالمی سیاسی میدان پر غلبہ حاصل کرتا تھا۔ اس کے بجائے انصاف اور مساوات پر مبنی کثیرالجہتی نظام اور کثیر قطبیت موجودہ دور کی ایک ناگزیر خواہش اور رجحان کے طور پر سامنے آچکے ہیں۔
جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کے بارے میں شمالی کوریا کے عہدیدار نے کہا کہ پیانگ یانگ کے خلاف مسلسل دشمنی اور امریکہ و اس کے اتحادیوں کی بڑھتی ہوئی فوجی محاذ آرائی کے باعث یہ خطہ اور اس کے گردونواح گزشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید عدم استحکام اور کشیدگی کا شکار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ، امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے سہ فریقی فوجی اتحاد کو ایک زیادہ جارحانہ اور دشمنانہ جوہری نوعیت کے فوجی بلاک میں تبدیل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اپنے اتحادیوں کے تعاون سے شمالی کوریا کے خلاف جوہری جنگ کے منصوبوں میں مسلسل تبدیلی اور انہیں جدید بنانے کے ساتھ مختلف اشتعال انگیز جنگی مشقوں کے ذریعے اپنی فوجی صلاحیتوں کو بھی مضبوط اور وسیع کر رہا ہے۔
شمالی کوریا کے سفارت کار نے کہا کہ امریکہ جزیرہ نما کوریا اور اس کے گردونواح میں جدید ترین میزائلوں اور ڈرونز سمیت مختلف فوجی سازوسامان تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ جنوبی کوریا کی جوہری آبدوزیں حاصل کرنے کی خواہش کی حمایت اور حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ فوجی حکمت عملی پہلے سے نازک علاقائی سکیورٹی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔
انہوں نے نئی حکومت کے دور میں جاپان کی بڑھتی ہوئی جارحانہ پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جاپان، جسے انہوں نے گزشتہ صدی میں جنگی جرائم کے ذریعے انسانیت کو بے شمار مصائب اور تباہیوں سے دوچار کرنے والا ملک قرار دیا، موجودہ عالمی بحران سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
ان کے مطابق جاپان غیر معمولی عزم کے ساتھ دوبارہ مسلح ہونے کی کوششیں تیز کر رہا ہے، جن میں امن پسند آئین پر نظرثانی، ’’صرف دفاع‘‘ کی پالیسی ترک کرنا، فوجی ڈھانچے میں تبدیلی اور ہتھیاروں کی صلاحیت میں توسیع شامل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے اقدامات پورے خطے پر جنگ کے سائے کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ